بھٹکل 2 ستمبر (ایس او نیوز) کرناٹک میں اسمبلی الیکشن کے لئے مشکل سے آٹھ ماہ رہ گئے ہیں اور بھٹکل کے جے ڈی ایس لیڈراور قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے سرگرم رکن عنایت اللہ شاہ بندری انتخابات میں اُترنے کی تیاری کرتے نظر آرہے ہیں۔
پتہ چلا ہے کہ عنایت اللہ شاہ بندری نے لکھنو میں واقع ملک کے معروف دینی درسگاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء پہنچ کردارالعلوم کے ناظم و آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر اور ملک کے مسلمانوں کے بزرگ قائد اورعالم دین حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی سے ملاقات کی ہے اوراُن سے آنے والے اسمبلی انتخابات میں کھڑے ہونے کا ارادہ ٖظاہر کرتے ہوئے مولانا سے خصوصی دُعاوں کی درخواست کی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ مولانا نے اُنہیں آگے بڑھنے کی صلاح دیتے ہوئے ڈھیر ساری دعاوں سے نوازا ہے۔ اس تعلق سے عنایت اللہ صاحب نے بتایا کہ مولانا رابع حسنی ندوی نے ایک طرح سے انہیں الیکشن میں اُترنے کے لئے گرین سگنل دیا ہے اور قوم وملت کی بھرپور خدمت کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عنایت اللہ صاحب کے مطابق مولانا نے اُنہیں بتایا کہ وہ آگے بڑھیں اور اللہ تعالی سے دعائیں بھی کریں۔
بتاتے چلیں کہ گذشتہ 15/20 سالوں سے عنایت اللہ شاہ بندری کرناٹک اسمبلی میں پہنچنے کی تگ ودو میں لگے ہوئے ہیں، کبڈی کھلاڑی کی حیثیت سے عوام میں اپنی منفرد پہچان بنانے والے عنایت اللہ شاہ بندری نےجب عوام کی خدمت کرتے ہوئے پہلی بار 2013 کے اسمبلی انتخابات میں جے ڈی ایس کی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح وتنظیم کی حمایت میں انتخابات میں حصہ لیا تھا، مگر انہیں کانگریس کے منکل ویدیا نے قریب نو ہزار ووٹوں سے شکست دے دی تھی۔ البتہ 2018 کے انتخابات میں ووٹوں کی تقسیم کو روکنے اورکانگریس کو جیت دلانے کے لئے تنظیم کی ہدایت پرعنایت اللہ شاہ بندری نے جے ڈی ایس کی ٹکٹ ہونے کے باوجود الیکشن کے اکھاڑے سے آخری مرحلے میں اپنے قدم پیچھے ہٹالئے تھے،جس کی وجہ سے کانگریس اور بی جے پی کا راست مقابلہ ہوا تھا، مگرتنظیم کی حمایت اور مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے باوجود کانگریس کے اُمیدوار منکال وئیدیا جیت درج نہ کرسکے اورعنایت صاحب کی قربانی کے باوجود بی جے پی کی ٹکٹ پر سنیل نائک جیت درج کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس تعلق سے عنایت صاحب کا کہنا ہے کہ آنے والے الیکشن میں تنظیم اگر ان پر بھروسہ کرتے ہوئے حمایت دیتی ہے تو عوام کے تعاون سے وہ جیت درج کرسکتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ گذشتہ انتخابات میں کہاں کہاں غلطیاں ہوئی تھی جس کی وجہ سے اُنہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ عنایت صاحب کے مطابق قوم اگرموقع دےاورعوام بھرپور ساتھ دیں تو انشاء اللہ اگلے الیکشن میں جیت یقینی ہے۔
اب قریب آٹھ ماہ بعد پھر اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں اورمسلمانوں کی بات کریں تو عنایت اللہ شاہ بندری ہی واحد شخص نظر آرہے ہیں جواپنے لئے الیکشن کا میدان ہموار کرنے میں جی توڑ محنت کررہے ہیں۔ مگر عوام کی بات مانیں تو مسئلہ یہ ہے کہ عنایت اللہ صاحب جس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں وہ پارٹی اس سے قبل بی جے پی سے ہاتھ ملا کرکانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرچکی ہے جس کو دیکھتے ہوئے آئندہ بھی ایسا ہونے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔
اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات کو لے کر قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کس طرح کا موقف اپناتی ہے۔ کیا تنظیم عنایت اللہ شاہ بندری کی حمایت کرتے ہوئے انہیں پھرایک بارموقع دے گی یا کسی اور پارٹی کے حق میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔